اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق العالم نے پاکستان میں اسٹراٹجک اسٹڈیز "باب" کے سربراہ جاسم تقی سے پوچھا: حکیم اللہ محسود کا قاتل کون ہے؟ اس کے قتل کا سبب کیا تھا؟ حکیم اللہ محسود کو حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے دوران ہی کیوں مارا گیا؟ کیا مذاکرات طالبان کے سربراہ کو پھنسانے کے لئے ایک جال کے طور پر استعمال کئے گئے؟ طالبان کا رد عمل کیا ہوسکتا ہے؟ پاکستان کو محسود کے قتل کے بعد کن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے؟ تو انھوں نے کہ کہا: لگتا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں پاکستان میں سلامتی کی صورت حال خراب ہوسکتی ہے؛ اس میں شک نہيں ہے کہ محسود کے قتل کا حکومت اور طالبان کے مذاکرات سے براہ راست تعلق ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات کا پہلا دور ہفتہ مورخہ 2 نومبر کو شمالی وزیرستان میں ہوگا اور وزیر اعظم نواز شریف نے قبل ازیں لندن میں کہا تھا کہ مذاکرات عملی طور پر شروع ہوچکے ہیں۔ تقی کا کہنا تھا کہ واضح امر تھا کہ فوج مذاکرات کے آغاز سے خوش نہ تھا کیونکہ طالبان فوج اور سیکورٹی اداروں پر حملے کررہے تھے اور اب تک انھوں نے جنرل سرفراز خان سمیت متعدد اعلی فوجی کمانڈروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قتل کیا ہے جس کی وجہ سے فوج کو طالبان پر شدید غصہ تھا اور فوج حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے خوش نہ تھی چنانچہ اب محسود کے قتل پر مذاکرات کا عمل رکے گا۔ انھوں نے کہا: ممکن ہے کہ طالبان قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں فوج کے خلاف انتقامی کاروائیاں کریں۔انھوں نے کہا: طالبان نے خیبر پختونخوا میں متعدد خودکش حملے کئے ہیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے اعلان کیا تھا کہ نواز شریف حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں نیز صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ـ جہاں طالبان موجود ہیں اور فوج بھی وہاں طالبان اور دوسرے گروپوں کے خلاف کاروائیاں کررہی ہے ـ امن و امان کی صورت حال نازک ہوسکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا گیا؛ طالبان نے تصدیق کردی
طالبان کے سرغنہ کی ہلاکت کے بعد ملک میں ہائي الرٹ
حکیم اللہ محسود کی نامعلوم مقام پر تدفین کی گئی
حکیم اللہ کی ہلاکت کےبعد خان سجنا کالعدم پاکستانی طالبان کا سربراہ مقرر